بنگلوررو،10؍فروری (ایس او نیوز) انسداد گؤکشی بل پر ریاستی کونسل میں نا مکمل بحث ہوئی اور نہ ہی اس بل کو منظور کروانے ووٹنگ کی گئی۔ کانگریس اور بی جے پی اراکین کونسل میں اس بل کے خلاف احتجاج کررہی رہے تھے کہ اس درمیان کونسل کے ڈپٹی چیرمین انمیش نے اچانک صوتی ووٹوں سے بل کومنظوری دینے کاا علان کردیا۔
اس طرح پارلیمانی ضابطہ کے خلاف منظور کردہ بل کو ریاستی بی جے پی حکومت بہت بڑی کامیابی تصور کررہی ہے۔ ریاست میں معاشی بحران ہے، ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں، مختلف فلاحی اسکیموں کو آگے بڑھانے سرکاری خزانہ میں فنڈ نہیں ہے، حکومت کو اس کی رتی برابر بھی فکر نہیں۔جس بل کی منظوری اور سختی سے یہ قانون نافذ ہونے سے ہزاروں لوگ بیکار ہوجائیں گے، سب سے زیادہ بڑے جانوروں کو پالنے والے کسان زیادہ متاثر ہوں گے اور ریاست کی معیشت متاثر ہوگی اس کی پروا کئے بغیر ریاستی حکومت گؤکشی سیوا میں مصروف ہے اور خوش ہورہی ہے کہ گائیوں کو کھلانے پلانے اور ان کی سیوا کرنے سے بی جے پی حکومت کی ترقی ہوگی۔حکومت میں شامل سارے وزراء کے پاپ دھل جائیں گے۔
ریاستی وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے آج صبح ہی سے اپنی رہائش گاہ پر کئی ریاستی وزراء کو طلب کرکے گؤسیوا شروع کردی ہے اور اس سیوا میں ریاستی وزیر برائے مویشی پالن و اوقاف پربھو چوہان پیش پیش رہے۔وزیراعلیٰ کی سرکاری رہائش گاہ کاویری میں منعقد گؤپوجا میں ریاستی وزیر برائے قانون و داخلہ امور بسوراج بومئی اور کئی افسروں نے بھی حصہ لیا۔ وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ میں پل رہی گائے اور بچھڑے کی پوجا کی گئی۔وزیراعلیٰ اور ان کے ساتھیوں نے گائے اور بچھڑے کی جوڑی کو چاول، گڑ اپنے ہاتھوں سے کھلاکر اس جوڑی کا اعزاز کیا۔ کل ریاستی قانون ساز کونسل میں انسداد گؤکشی بل کی منظوری سے یہ قانون مضبوط ہوگیا ہے۔
ریاست پر اس قانون کو سختی سے نافذ کرنے محکمہ پولیس کو سخت ہدایت دی گئی ہے۔جس کے نتیجہ میں اکثر بڑے گوشت کی دکانیں بند پڑی ہوئی ہیں۔اب تک جن شہروں میں بڑے جانوروں کے ذبیحہ اور گوشت کے فروخت میں ڈھیل دی گئی تھی، اب وہاں بھی سختی برتے جانے کا امکان ہے۔